بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 ربیع الثانی 1448ھ 08 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شراکت داری میں نفع کی تقسیم

سوال

الف کمپنی اپنے مخصوص تجارتی مال میں کسی شخص کو اس طرح شریک دار بناۓ کہ سارے انتظامی امور خود سنبھالے اور اس پے آنے والے سارے اخراجات میں سرمایہ کاری اس شخص سے کرواۓ اور تجارتی مال میں ١٠٠ فی صد ملکیت اسی شخص کی ہو۔ اور اس کے نتیجے میں جو خالص نفع حاصل ہو اس میں٥٠ فیصد نفع بشمول اصل رقم کے اس کو حصہ دار بناۓ اور بقیہ ٥٠ فی صد خود رکھے ۔ اور اسی طرح نقصان کی صورت میں ساری ذمہ داری سرمایہ کار پے ڈالے، خود کوئی ذمہ داری نہ لے ۔ تو کیا یہ طر یقہ درست ہے؟  براۓ مہربانی شریعت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں سرمایہ کار کی شرعی حیثیت رب المال کی ہے، جب کہ کمپنی کی حیثیت مضارب کی ہے، اور مذکورہ شراکت داری از روئے شرع مضاربت ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ مضارب طے شدہ شرح کے مطابق نفع میں تو شریک ہوتا ہے، البتہ نقصان کی صورت میں نقصان  رب المال  کا شمار ہوتا ہے جس میں مضارب شریک نہیں ہوتا، لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ طریقہ کے مطابق شراکت داری کرنا شرعاً درست ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144003200340
تاریخ01-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں