بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

ایک آدمی کا انتقال ہوگیا۔ ترکہ میں چار مرلہ گھر چھوڑا۔ ورثاء : ایک بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ 

جواب

مذکورہ بالا صورت میں مرحوم کے ترکہ میں سے تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اس پر اگر کوئی قرضہ ہے تو وہ ادا کیا جائے گا، اس کے بعد  اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ سے اس وصیت کو پورا کیا جائے گا۔پھر ما بقیہ کل ترکہ میں 12.50% حصہ بیوہ کا ، 17.50% حصہ ہر بیٹے کو اور 8.75% حصہ ہر بیٹی کا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200336
تاریخ01-12-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں