ایک بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم
سوال
ایک آدمی کا انتقال ہوگیا۔ ترکہ میں چار مرلہ گھر چھوڑا۔ ورثاء : ایک بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔
جواب
مذکورہ بالا صورت میں مرحوم کے ترکہ میں سے تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اس پر اگر کوئی قرضہ ہے تو وہ ادا کیا جائے گا، اس کے بعد اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ سے اس وصیت کو پورا کیا جائے گا۔پھر ما بقیہ کل ترکہ میں 12.50% حصہ بیوہ کا ، 17.50% حصہ ہر بیٹے کو اور 8.75% حصہ ہر بیٹی کا ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

