بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حرمت مصاہرت کا مسئلہ

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے  کرام اس شخص کے بارے میں جس نے اپنی ساس کی چھاتی چوسی اور بوس و کنار بھی کیا ۔مگر ساس کہتی ہے کہ یہ میری بیٹی کی طرح ہے ۔آیا حرمتِ مصاحرت ثابت ہوگی کہ نہیں؟

جواب

اس بارے میں شرعی اصول یہ ہے اگر   کوئی  شخص اپنی ساس  کو  ایسےچھوئے  کہ اس کے اور ساس  کے جسم کےدرمیان کوئی کپڑا نہ ہو ،یا کپڑا تو ہو لیکن اس سے بدن کی گرمی محسوس ہو اور   اس شخص    کو شہوت بھی محسوس ہو یا جسم کے ایسے حصے کو بلاحائل چھوئے یا بوسہ دے جہاں چھونے میں شہوت غالب ہو تو اس صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، اور پھر اس پر  بیوی (ساس کی بیٹی) حرام ہوجا تی ہے۔

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً ایسی صورت پیش آئی ہو   جو مذکور ہے تو حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی  اور اس شخص کے لیے اپنی بیوی سے تعلق قائم رکھنا جائز نہیں ہوگا، زوجین کے مابین علیحدگی لازم ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200308
تاریخ30-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں