بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زنا کاحمل ساقط کرنا

سوال

لڑکا لڑکی نے زنا کیا  اور لڑکی کو حمل ٹھہر  گیا  اور اس کا علم زنا کرنے کے تیسرے ہفتے میں پتا چلا تو کیا ایسے میں اسقاط حمل کروایا جا سکتا ہے؟ اگر اسقاط حمل کروایا جائے تو کیا یہ قتل ہوگا؟

جواب

اولاً تو کبیرہ گناہ (زنا) کے ارتکاب پر صدقِ دل سے توبہ لازم ہوگی، لڑکا اور لڑکی کا اگر نکاح ممکن نہیں ہو تو دونوں کو باہمی تعلقات فوری طور پر ختم کرنا ضروری ہوگا، آئندہ دونوں کسی بھی غیر محرم سے بے محابا تعلق نہ رکھیں۔ باقی ایسی صورت میں اسقاطِ حمل قتل شمار نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200305
تاریخ29-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں