نہیں ہو بیوی میری کہنے سے طلاق کا حکم
سوال
کسی بات پر لڑتے ہوئےبیوی نے کہا :"شرم کرو بیوی ہوں میں تمہاری "تو جواب میں غصے میں شوہر نے کہا:"نہیں ہو بیوی میری"۔ اب کیا حکم ہے ہمارے لیے ،طلاق کی نیت نہیں، بس غصہ تھا؟
جواب
اگر واقعۃً (نہیں ہو بیوی میری) کہنے والے کی نیت طلاق کی نہیں تھی تو اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
’’ولو قال لامرأته: لست لي بامرأة، فإن قال: أردت به الکذب یصدق في الرضا والغضب جمیعًا، ولا یقع الطلاق‘‘. ( الدر المختار مع الشامي ۲ ؍ ۶۲۳ کراچی ) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

