بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر اگر پوری نما زادا کرلے تو کیا حکم ہوگا؟

سوال

مسافر اگر سفر کے دوران پوری نماز ادا کر لے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ نے جواب پہلے عربی میں دیا ہے۔ مہربانی فرما کر اردو میں جواب دیں!

جواب

مسافر  اگر منفرداً (تنہا) نماز ادا کرے یا امامت کرے تو اس پر چار رکعات والی نماز میں قصر کرنا یعنی  دو رکعت پڑھنا واجب ہے۔  اگر پوری چار رکعت منفرداً پڑھے گا تو دو صورتیں ہیں:

1۔۔ اگر دوسری رکعت کے بعد قعدہ کیا تو فرض نماز ادا ہوجائے گی، لیکن گناہ گار ہوگا، پہلی دو رکعت فرض ہوجائیں گی اور دوسری دو رکعت  نفل  ہوجائیں گی، جب تک نماز کا وقت باقی ہو مسافر پر اس فرض نماز کاقصر کےساتھ اعادہ کرنا واجب ہوگا، اور وقت گزرنے کے بعد اعادہ مستحب ہوگا۔

2۔۔  اگر دوسری رکعت کے بعد قعدہ میں نہیں بیٹھا تو اس کی فرض نماز باطل ہوجائے گی، اور پوری نماز نفل شمار ہوگی، وقت باقی ہو یا نہیں اس پر فرض نماز قصر کے ساتھ لوٹانا واجب ہوگا۔

اور اگر  مسافر اما م نے امامت کرائی  اور پوری نماز پڑھائی اور قعدہ اولی کیا تو مسافر مقتدیوں کی نماز درست ہوجائے گی، البتہ مقیم مقتدیوں کی نماز درست نہیں ہوگی، ان کے ذمہ اعادہ کرنا واجب ہے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200289
تاریخ28-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں