بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 40 دن سے پہلے اگر حمل ضائع ہو جائے تو آنے والے خون کا حکم

سوال

 40 دن سے پہلے اگر حمل ضائع ہو جائے تو اس کے بعد جو خون آئے تو کیا وہ حیض شمار ہوگا یا نفاس؟ اگر حیض شمار ہوگا تو خون اگر دس دن سے زیادہ آ جائے تو نماز کا کیا حکم ہے؟جب کہ عورت کی ایام کی عام عادت سات دن کی ہے!

جواب

چوں کہ 40 دن کے  حمل میں اعضاء وغیرہ ظاہر نہیں ہوتے ہیں؛ لہذا اس کے بعد آنے والا خون اگر کم از کم تین روز تک آیا ہو، اور اس سے پہلے ایک طہرتام (پندرہ دن کا دورانیہ) گزرا ہو تو پھر یہ حیض (ماہواری) ہے، عورت سات دن کے بعد کے خون کو استحاضہ (بیماری )شمار کرے، اور نماز وغیرہ  پڑھے ، اگر اس سے پہلے ایک طہر نہ گزرا ہو یا آنے والا خون تین دن سے کم ہو تو پھر یہ مکمل خون نہ نفاس ہے اور نہ حیض بلکہ استحاضہ (بیماری) کا خون ہوگااور عورت تمام ایام کی  نماز پڑھے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200278
تاریخ28-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں