بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حمل ضائع ہونے کے بعد کا خون

سوال

حمل ضائع ہونے کے  بعد جو خون آتا ہے وہ  حیض ہوگایانفاس؟

جواب

حمل( اگر اس  کے اعضاء مثلاً ہاتھ، پیر وغیرہ ظاہر ہوگئے ہوں، یعنی چار ماہ کے بعد ) ضائع ہونے   کے بعد جو خون جاری ہوتا ہے وہ شرعاً نفاس کا خون ہے، اس کا حکم یہی ہے کہ چالیس دن کے اندر اندر جتنے دن خون جاری رہے گا نماز، روزہ، جماع وغیرہ جائز نہیں ہے، اور چالیس دن کے اندر جس روز خون بند ہوجائے اس کے بعد نماز، روزہ، جماع وغیرہ جائز ہے۔ اور اگر حمل کے اعضاء ظاہر ہونے سے پہلے وہ ساقط ہوجائے تو اگر آنے والے خون سے پہلے پندرہ دن یا اس سے زیادہ پاکی کے گزر چکے ہوں اور یہ خون تین دن سے زیادہ ہو تو حیض شمار ہوگا، ورنہ استحاضہ (بیماری) ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200266
تاریخ27-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں