بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چوری کی بجلی سے گرم شدہ پانی سے غسل کرنا

سوال

چوری کی بجلی سے گرم شدہ پانی  غسل کے لیےاستعمال کرنا جائز ہے؟

جواب

سرکار کی طرف سے قیمتاً جو سہولیات عوام کو فراہم کی جاتی ہیں ان پر معاشرے کا مشترکہ حق ہوتا ہے، جس حق سے خلافِ ضابطہ فائدہ اٹھانا عوامی حق تلفی اور دھوکا دہی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہوتا ہے، پس صورتِ مسئولہ میں بجلی چوری کرکے استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں، اور ایسی بجلی کسی بھی مقصد میں استعمال کرنا (خواہ پانی گرم کرنے کے لیےہو یا کسی اور مقصد کے لیے) جائز نہیں، گوکہ غسل ہوجائے گا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200265
تاریخ27-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں