بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوہ عدت کہاں گزارے گی؟

سوال

میرے چچا کویت میں فوت ہوئے, ان کی فیملی مستقل لاہور میں رہائش  پزیر ہے, اور ان کی تدفین آبائی  گاؤں جو کہ "مری" ہے  وہاں کی جائے  گی۔ اب ان کی بیوہ کو اپنی عدت کے دن کہاں گزارنے ہوں گے? 

جواب

بیوہ  کے لیے شرعاً شوہر کے گھر میں عدت گزارنا لازم ہے؛  لہٰذا مذکورہ صورت میں  آپ کے چچا کا  جو  لاہور میںمستقل گھر ہے،  وہیں عدت گز ارے گی۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ـ مشكول (11/ 134):
"وَلَكِنْ فِي الْخَانِيَّةِ: وَالْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَخْرُجُ بِالنَّهَارِ لِحَاجَتِهَا إلَى نَفَقَتِهَا، وَلَا تَبِيتُ إلَّا فِي بَيْتِ زَوْجِهَا ا هـ".

العناية شرح الهداية (6/ 146):
"وَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّتِي قُتِلَ زَوْجُهَا هِيَ فُرَيْعَةُ بِنْتُ مَالِكِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَمَّا قُتِلَ زَوْجُهَا جَاءَتْ إلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَتْ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَنِي خُدْرَةَ لَا فِي بَيْتِ زَوْجِهَا، فَأَذِنَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَتْ دَعَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا : أَعِيدِي الْمَسْأَلَةَ، فَأَعَادَتْ، فَقَالَ لَهَا : لَا{حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ} يَعْنِي لَا تَخْرُجِي حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُك.
وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى حُكْمَيْنِ. عَلَى أَنَّهَا يَجِبُ عَلَيْهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي مَنْزِلِ الزَّوْجِ".
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200262
تاریخ27-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں