بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈرائیور کا مالک کی اجازت کے بغیر کسی کو گاڑی میں بٹھانا

سوال

بعض ڈرائیور حضرات جو بطورِ ڈرائیور کسی کے ہاں ملازم ہوتے ہیں وہ کسی شخص کو لفٹ دیں جب کہ اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ ڈرائیور کو مالک کی طرف سے اجازت ہے یا نہیں، تو اس شخص کا گاڑی میں بیٹھنا کیسا ہے؟ نیز کیا اس طرح لفٹ دینے کو عرف پر محمول کر سکتے ہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ جس شخص کو گاڑی میں بیٹھنے کی لفٹ دی جارہی ہو ، اسے جب تک یہ معلوم نہ ہوکہ اس گاڑی کے مالک کی طرف سے اس ڈرائیور کو لفٹ دینے کی اجازت نہیں ہے، تب تک اس کے لیے لفٹ لینے میں حرج نہیں ہے، باقی ڈرائیور کو اگر مالک کی طرف سے صراحتاً یا عرفاً اجازت ہو تو ان کے لیے لفٹ دینا جائز ہے، اگر صراحتاً  ممانعت ہو تو لفٹ دینا جائز نہیں ہے، اگر صراحتاً ممانعت نہ ہو اور وہاں کا عرف ایسا ہو کہ عموماً لفٹ نہ دی جاتی ہو تو بھی ڈرائیور کے لیے لفٹ دینا جائز نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200253
تاریخ26-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں