بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انٹرنیٹ پر آڈیو کال پر نکاح

سوال

ایک لڑکے اور لڑکی  کی انٹرنیٹ کی آڈیو کال پر شادی ہوئی۔ لڑکی سعودی عرب میں رہتی ہے اور لڑکا پاکستان میں رہتا ہے۔ ان کا نکاح ہوگیا ہے، لیکن  کاغذات پر لڑکی دستخط نہیں کرتی۔ لڑکا اس سے کہتا رہتا ہے کہ میں آرہا ہوں، لیکن وہ لڑکی کے پاس نہیں جاتا۔ انتظار کر کر کے لڑکی والوں کا صبر ختم ہوگیا ہے۔لڑکی والے طلاق یا خلع چاہتے ہیں، اس کا کیا طریقہ ہے؟ لڑکی کے بھائی نے لڑکے کو فون کر کے بولا کہ طلاق چاہیے، وہ نہیں مانا ۔ ایک دن مان گیا اور میسج کیا "طلاق طلاق طلاق"۔ اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا یہ طریقہ صحیح ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیا طریقہ کیا جائے جب کہ ہمارے پاس کاغذات بھی نہیں ہیں؟

جواب

انٹرنیٹ پر آڈیو کال کے ذریعہ ہی ایجاب و قبول کیا گیا تومجلس ایک نہ ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں  ہوا، لہذا طلاق یا خلع حاصل کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3 / 14):

"ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200248
تاریخ26-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں