بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 جن جرابوں کے صرف تلوؤں پر چمڑا ہو ان پر مسح کرنا

سوال

 جن جرابوں کے صرف تلوؤں پر چمڑا ہو ان پر مسح کرنا کیسا ہے؟

جواب

’خفین‘‘ ایسے موزے کو کہتے ہیں جو پورے چمڑے کے ہوں، اسی طرح  ”مجلد“ یعنی وہ موزے جن کے اوپر اور نچلے حصے میں چمڑا ہو ، اور ”منعل“ یعنی وہ موزے جن کے صرف نچلے حصے میں چمڑا ہو  ان تینوں پر مسح کرنا جائز ہے، بشرطیکہ دیگر شرائط پائی جاتی ہوں، یعنی ٹخنوں سمیت پاؤں کو چھپائے ہوئے ہوں، خود پنڈلی پر رک سکتے  ہوں،ان میں سے پانی چھنتا ہو اور تین میل تک ان میں مسلسل چلنا ممکن ہو۔حاشية رد المحتار على الدر المختار (1/ 270):
"تنبيه: ما ذكره المصنف من جوازه على المجلد والمنعل متفق عليه عندنا ".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 37):
"وَأَمَّا الْمَسْحُ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ ، فَإِنْ كَانَا مُجَلَّدَيْنِ ، أَوْ مُنَعَّلَيْنِ ، يُجْزِيهِ بِلَا خِلَافٍ عِنْدَ أَصْحَابِنَا وَإِنْ لَمْ يَكُونَا مُجَلَّدَيْنِ ، وَلَا مُنَعَّلَيْنِ ، فَإِنْ كَانَا رَقِيقَيْنِ يَشِفَّانِ الْمَاءَ ، لَا يَجُوزُ الْمَسْحُ عَلَيْهِمَا بِالْإِجْمَاعِ". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200244
تاریخ26-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں