بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بوجہ مجبوری نومولد بچے کے ایک ہی کان میں اذان و اقامت کہنا

سوال

میر ا بیٹا پیدا  ہوا ہے  قبل از وقت پانچ چھ ماہ میں، ڈاکٹرز نے کروٹ دینے سے منع کیا تھا، اس لیے اس کے ایک ہی  کان میں اذان اور اقامت دے دی، کیا یہ طریقہ درست ہے؟ اور نام میکائیل رکھنے کا سوچا ہے کیا درست ہے؟یا کوئی اور نام بتادیں!

جواب

بوجہ مجبوری ایک ہی کان میں اذان واقامت دینے میں کوئی حرج نہیں۔

میکائیل نام کے بجائے انبیاءِ کرام  علیہم الصلاۃ والسلام یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا صلحائے امت کے ناموں میں سے  کوئی نام تجویز کرنا شرعاً زیادہ بہتر  ہے ۔

 آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’سموا بأسماء الأنبياء ولا تسموا بأسماء الملائكة‘‘۔

یعنی  ’’ تم اپنے بچوں کے نام انبیاء کے نام پر رکھو، فرشتوں کے نام پر مت رکھو‘‘۔

اسی وجہ سے بعض علماء کرام نے فرشتوں کے نام پر نام رکھنے کو مکروہ کہا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200242
تاریخ26-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں