بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گستاخ رسول ﷺ کی معافی کا حکم

سوال

گستاخ رسول ﷺ کا حکم کیا ہے اگر یہ معافی مانگ لے تو کیا اسکی معافی قبول ہوگی سزا ختم ہوجائے گی؟

جواب

 پاکستان  کے قانون کے آرٹیکل 295 C  کے تحت گستاخِ رسول ﷺ کی سزا بطورِ حد قتل ہے۔اور اس جرم کے پائے جانے اور اقرار یا شرعی گواہوں کی گواہی سے یہ  ثابت ہو جانے کی صورت میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس سزا کا اطلاق کرے۔فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ گستاخِ رسول کی سزا بطورِ حد ہے، لہٰذا توبہ کرنے سے بھی یہ سزا اس سے معاف نہیں ہوگی۔

تاہم یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اس طرح کی سزاوٴں کا اجرا حکومت کا کام ہے، ہرکس و ناکس اس طرح کی سزا جاری کرنے کا مجاز نہیں ہے۔

قال في الشامية:

"لو لم یر السنة حقاً کفر؛ لأنه استخفاف. و وجهه: أن السنة أحد الأحکام الشرعیة المتفق علی مشروعیتها عند علماء الدین، فإذا أنکر ذلک ولم یرها شیئاً ثابتاً ومعتبرًا في الدین یکون قد استخف بها واستهانها وذلک کفر". (ج۱ ص۳۵۰)

وقال في سابّ الأنبیاء:

"والکافر یسب نبياً من الأنبیاء فإنه یقتل حداًّ، ولاتقبل توبته مطلقاً". (ج6 ص370)

" وحاصله: أنه نقل الإجماع علی کفرالساب، ثم نقل عن مالک ومن ذکره بعده أنه لاتقبل توبته، فعلم أن المراد من نقل الإجماع علی قتله قبل التوبة․ ثم قال:وبمثله قال أبو حنیفة وأصحابه ... فهذا صریح کلام القاضي عیاض في الشفاء والسبکي وابن تیمیة وأئمة مذهبه علی أن مذهب الحنفیة قبول التوبة بلاحکایة قول آخر عنهم، وإنما حکوالخلاف في بقیة المذاهب وکفی بهولآء حجة لولم یوجد النقل کذلک في کتب مذهبنا"․ (شامی:۶/۳۷۱،۳۷۲) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200229
تاریخ25-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں