بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات سے غیر مستحق کو حج کروانا

سوال

جو شخص زکات، فطرانہ،صدقہ وغیرہ کا مستحق نہ ہو، لیکن اس کے پاس اتنی رقم بھی موجود نہ ہو کہ وہ عمرہ کرسکے، کیا وہ صاحبِ استطاعت لوگ جو زکاۃ، صدقہ،فطرانہ کے پیسوں سے لوگوں کو عمرہ،حج کرواتے ہیں (ایک بار وہ شخص عمرہ کر چکا ہے، اپنی فی الحال جمع پونجی سے) اگر وہ شخص دوبارہ عمرہ یا حج کی سعادت حاصل کرنا چاہے تو کیا وہ شخص زکاۃ،صدقہ، فطرانہ وغیرہ کی رقم سے عمرہ یا حج کرنے جاسکتا ہے؟

جواب

 جب ایک شخص زکاۃ کا مستحق نہیں تو حج ادا کرنے  کے لیے وہ زکاۃ اور واجب صدقات وصول نہیں کرسکتا، البتہ نفلی صدقہ یا ہدیہ  اس کو کوئی دے تو وہ وصول کرسکتا ہے۔

’’هو فقیر وهو من له أدنی شيء أي دون نصاب أوقدر نصاب غیر نام مستغرق في الحاجة‘‘. (الدرمختار مع رد المحتار، باب الصرف ج۲ ص ۳۳۹)

’’لا إلی غني یملک قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلیة من أي مال کان الخ ولا إلی طفله بخلاف ولده الکبیر‘‘ الخ (الدرالمختار مع ردالمحتار باب المصرف ج ۲ ص ۸۸) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200228
تاریخ25-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں