بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر کی نماز

سوال

 سفر میں نماز کی پوری تفصیل بتادیں, مثلاً کس وقت میں کتنی رکعت پڑھنی چاہییں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں شرعی مسافر  چار رکعات والی فرض نمازوں (ظہر، عصر اور عشاء) میں قصر   کرے گا(یعنی دو رکعات ادا کرے گا)۔ نیز فجر سے پہلے کی دو سنتوں اور وتر کے علاوہ باقی سنن کا اہتمام بھی اس کے لیے ضروری نہیں، البتہ اگر سفر میں کسی جگہ ٹھہرا ہوا ہو  اور سنن کی ادائیگی میں حرج نہ ہو تو تمام سنن پڑھنا افضل ہے۔ نیز نمازِ جمعہ میں اگر حاضرہو جائے تو ادا کرلے، بصورت دیگر نماز جمعہ بھی لازم نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200224
تاریخ24-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں