بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دکان خرید کر نقصان بائع پر ڈالنا

سوال

چار بھائیوں کو وراثت میں دوکان ملی،ایک بھائی نے رقم لگا کر تین بھائیوں کا حصہ خرید لیا، اب وہ دوکان ٹوٹ گئی کسی وجہ سے، کیا اب وہ تین بھائی اس ایک بھائی کو کچھ دیں گے شرعی حیثیت سے یا نہیں؟

جواب

اگر واقعۃً  وہ تین بھائیوں سے ان کا حصہ خرید چکا ہے، تو اب دکان میں جو نقصان ہوا ہے وہ خریدنے والے  بھائی کا ہے ۔باقی بھائی نقصان کے ذمہ دار نہیں۔

’’وأشار بقوله: للمشتري أن یبیع ... الخ إلی أن بیعه جائز، لکن لایلزم من جواز البیع نفاذه ولزومه؛ فإنهما موقوفان علی نقد الثمن أو رضي البائع وإلا فللبائع إبطال بیع المشتري‘‘. (شرح المجلة لخالد الاتاشي ص١٧٣) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200209
تاریخ24-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں