بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اولاد کو جائیداد سے عاق کرنا

سوال

اگر کوئی آدمی اپنی اولاد کو جائیداد میں سےعاق کر دیتا ہے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ آیا والدین کےلیے اپنی اولاد کوجائیدادسے عاق کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو کس وجہ سے؟

جواب

اپنی اولاد  میں سے کسی کو  اپنی جائے داد  سے  عاق کرناجائز نہیں ہے اور نہ ہی شرعاً اس کی کوئی حیثیت ہے،  اگر کسی نے اپنی اولاد  میں سے کسی کو اپنی جائیداد سے عاق بھی کردیا تو اس سے وہ  اپنے شرعی حصہ سے محروم نہیں ہوگا، بلکہ شرعی حصہ بدستور اس کو ملے گا۔

مشكاة المصابيح  میں ہے:

’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ قَطَعَ مِيرَاثَ وَارِثِهِ قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ‘‘.  (1/266، باب الوصایا، ط: قدیمی)۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200202
تاریخ23-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں