بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دفع ہو نکل اس گھر سے کہنے کا حکم

سوال

ایک دفعہ میری بیوی مسلسل مجھ سے یہ مطالبہ کر رہی تھی کہ میں اس کے لیے گفٹ کیوں نہیں لاتا، میں نے اس سے کہا کہ میں آئندہ اس کے لیے گفٹ لے آؤں گا ، لیکن وہ بضد تھی کہ میں اس کے لیے اس دن گفٹ کیوں نہیں لے کر آیا ، وہ مسلسل مجھ سے لڑ رہی تھی، میں نے اسے کہا کہ چپ ہوجائے، لیکن وہ باز نہیں آئی، میں نے اسے شدید غصہ کی حالت میں یہ کہا: "دفع ہو، نکل اس گھر سے"،  میں نے یہ الفاظ اسے چپ کرانے کے لیے شدید غصہ میں کہے تھے، طلاق دینے کی نیت نہیں تھی، اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا طلاق ہو گئی  یا نہیں ہوئی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ طلاق کی نیت نہیں تھی؛ اس لیے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200197
تاریخ22-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں