بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق دوں گا تو میری بیوی نہ ہوگی کہنے کا حکم

سوال

 میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ ’’2 سال بعد طلاق دوں گا تو آپ میری  بیوی نہیں ہو گی‘‘ ۔ کیا طلاق  واقع ہوگئی؟

جواب

 طلاق کے لیے ضروری ہے کہ ماضی یا حال کے صیغہ سے طلاق دی جائے یا ایسے صیغہ سے جس کا غالب استعمال حال کے لیے ہو، مستقبل کے صیغہ سے طلاق واقع نہیں  ہوتی؛ چنانچہ صورتِ مسئولہ میں آپ کے الفاظ ”2 سال بعد طلاق دوں گا تو آپ میری بیوی نہیں ہو گی “مستقبل کے الفاظ ہیں، اور یہ وعدہ طلاق ہے،  لہذا ان سے آپ کی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہوئی۔ اور دو سال بعد بھی طلاق دیے بغیر طلاق طلاق واقع نہیں ہوگی۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200190
تاریخ22-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں