بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عید میلاد النبی کی نیاز کا کھانا

سوال

عید میلادنبی کی نیاز کھانا کیسا ہے؟

جواب

عید میلاد النبی ﷺ  کی  نیاز  کا کوئی ثبوت شریعت میں نہیں ہے؛ بلکہ یہ محض بے اصل اور بدعت ہے; لہٰذا ان رسموں سے بچنا لازم ہے۔ البتہ اگرکھانا اللہ کے نام پر دیا گیا ہو اور مقصود ایصالِ ثواب ہو تو کھانے میں حرمت نہیں آتی، وہ کھانا حلال ہے۔

"عن عبد اللّٰه بن عمرو رضي اللّٰه عنه عن النبي صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لاتحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي". (سنن الترمذي ۱؍۱۴۱)
"النذر للمخلوق لایجوز؛ لأنه عبادة، والعبادة لاتکون للمخلوق، ومنها: أن المنذور له میت، والمیت لایملك، ومنها: إن ظن أن المیت یتصرف في الأمور دون اللّٰه تعالیٰ، والاعتقاد ذٰلک کفر". (البحر الرائق، قبیل باب الاعتکاف ۲؍۲۹۸) 

"عن عائشة رضي اللّٰه تعالیٰ عنها قالت: قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم: من أحدث في أمرنا هذا ما لیس منه فهو رد". (صحیح البخاري، الصلح، باب إذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود رقم: ۲۶۹۷)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200183
تاریخ21-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں