بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چار رکعت والی نماز میں قرأت کا حکم

سوال

4 رکعت والی نماز میں قرأت کیسے  کرنی  چاہیے؟ خصوصاً  آخری دو رکعت میں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر چار رکعت والی فرض نماز ہو تو اس کی پہلی دو رکعات میں سورہ فاتحہ اور اس کی بعد کوئی سورت پڑھنا واجب ہے، جب کہ آخری دو رکعات میں قرأت واجب نہیں، البتہ سورہ فاتحہ پڑھنا مسنون ہے۔ اور اگرچار رکعات والی نماز سنت یا نفل ہو تو اس کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور اس کے بعد کوئی سورت پڑھنا واجب ہے۔

طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

’’و يكره قراءة سورة فوق التي قرأها‘‘. (مكروهات الصلاة، ص: ٣٥٢، ط: قديمي)

فتاوی شامی میں ہے:

’’(قوله: بترك واجب) اي من واجبات الصلاة الأصلية، لا كل واجب؛ إذ لو ترك ترتيب السور لا يلزمه شيء مع كونه واجباً‘‘. ( باب سجود السهو، ٢/ ٨٠، ط: سعيد)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200170
تاریخ21-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں