بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عقیقہ کا کھانا جلسہ والوں کو کھلانا

سوال

 ہمارے یہاں سیرت کے موضوع پر ایک جلسہ منعقد کیا گیا ہے، اس میں باہر سے آنے والوں کے لیے قیام وطعام کا انتظام کیا گیا ہے۔ امر ضروری یہ ہے کہ ایک شخص نے عقیقہ کے واسطے جانور رکھے ہوئے ہیں، کیا ان کا گوشت جلسے میں شریک ہونے والے مہمانوں کو کھلایا جا سکتا ہے؟

جواب

اگر اس شخص کی طرف سے اجازت ہو تو کھلاسکتے ہیں، اور بچہ کی پیدائش ہوچکی ہے تو عقیقہ بھی ادا ہو جائے گا۔ البتہ دینی تقریبات میں تکلف نہیں کرنا چاہیے کہ کھانے کے انتظام کے بغیر کوئی مجلس ہی منعقد نہ کی جائے، بلاتکلف جو سہولت سے میسر ہو اس پر اکتفا کرنا چاہیے۔

’’صنع بالعقیقة مایصنع بالأضحیة ... وفي قوله: یأکل أهل العقیقة ویهدونها دلیل علی بطلان ما اشتهر علی الألسن، أن أصول المولود لایأکلون منها فإن أهل العقیقة هم الأبوان أولا ثم سائر أهل البیت‘‘. (إعلاء السنن، قبیل باب ما یقول الذابح عند الذبح، کراچی ۱۷/۱۲۷، دار الکتب العلمیة بیروت ۱۷/۱۴۰) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200169
تاریخ21-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں