بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

 میت کو تابوت کے ساتھ دفن کرنا

سوال

 میت کو تابوت کے ساتھ دفن کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

مسلمانوں کے لیے میت کو دفن کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ میت کو کفن دے کر قبر میں زمین پر لٹا دیں اور تختے دے کر مٹی ڈال دیں،  صندوق میں بند کرکے دفن کرنا مسلمانوں کا طریقہ نہیں ہے، نصاریٰ کا شعار ہے، البتہ  اگر کوئی  خاص ضرورت اور سخت حاجت پیش آجائے مثلاً: زمین کمزور ہے تو اس میں تابوت یعنی لکڑی کے صندوق میں میت کو رکھ کر اتارنا جائز ہے، لیکن بلاضرورت اسلامی شعار کوچھوڑنا اور خواہ مخواہ صندوق پر کثیر  رقم خرچ نہیں کرنا چاہیے۔ (مستفاد: کفایت المفتی ، ۴/ ۵۰ ، ۶۳ ط:دار الاشاعت)

فتاوی شامی[کتاب الصلاة، باب صلاة الجنائز،  (2/ 234) ] میں ہے:

’’ (قوله: ولا بأس باتخاذ تابوت إلخ) أي يرخص ذلك عند الحاجة، وإلا كره‘‘.فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200155
تاریخ19-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں