بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دین داروں کا تصویر بنانا

سوال

ایک چیز ذہن میں کھٹک رہی ہے تصویرکے بارے میں کہ تصویر حرام ہے، تو ویڈیوز کا کیا حکم ہے؟ کیوں کہ دنیاداروں کی دیکھ دیکھی آج کل دینی طبقہ بھی خوب زور اور شور سے کر رہے ہیں، بہت سے علمائے کرام ویڈو بیانات کررہے ہیں اور ریکارڈ کررہے ہیں اور فیس بک اوریوٹیوب پر دھڑادھڑ اَپ لوڈ کررہے ہیں۔ اس کی کو ئی شرعی حد ہے؟ یا کیا فرماتے ہیں آپ صاحبان؟

جواب

 جان دار کی تصویر کسی بھی نوعیت کی ہو بلا ضرورتِ شدیدہ اس کا بنانا ، اور لوگوں کو بھیجنا  جائز نہیں ہے، اور ویڈیو بھی تصویر ہی کے حکم میں ہے۔

دنیا داروں کی دیکھا دیکھی بلا ضرورت  تصویر بنوانا اور اس کو شیئر کرنا لمحہ فکریہ ہے۔ دینی طبقے پر بھی اس سے اجتناب لازم ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200154
تاریخ19-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں