بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانی کی قلت کی صورت میں دوسرے علاقے سے پانی کی لائن لینا

سوال

ہمارے  علاقے میں پانی بالکل نہیں آتا،  اگر میں ساتھ والے علاقے سے پانی کی لائن گھر لاتا ہوں تو کیا یہ شرعی طور پر کوئی گناہ کی بات ہوگی یا نہیں؛ کیوں کہ ہمیں پانی کی بہت زیادہ پریشانی ہے؟

جواب

 اگر حکومت کی جانب سے پانی کی لائن باقاعدہ اُس علاقے کے لیےمختص نہیں ہے، بلکہ سب کو استعمال کرنے کا اختیار ہے توپھر آپ  کو اختیار ہوگا کہ پانی کی لائن کو  گھر لا کر استعمال کرے، بشرطیکہ اس علاقے والوں کو پانی کی کمی کا سامنا نہ ہو، اوراگر حکومت کی جانب سے پانی کی وہ لائن  صرف ساتھ والے علاقے کے لیے ہی مختص ہے تو اس صورت میں آپ کے لیے اس علاقے سے پانی کی لائن لانا درست نہیں ہوگا، بلکہ سائل کو چاہیے کہ کوئی اور متبادل صورت اختیار کرے۔ یہ اس صورت میں ہے جب باقاعدہ پانی کی لائن وغیرہ ہو، اگر دریا یا بڑے چشموں وغیرہ کا پانی ہے جو کسی کی ملکیت میں نہیں ہے تو  وہ مباح ہے اس کے استعمال کی سب کو اجازت ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200147
تاریخ19-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں