بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آبائی گاؤں اور رہائشی گاؤں میں سے کس کی مسجد میں ماہانہ رقم دینی چاہیے؟

سوال

ایک شخص کا آبائی وطن کسی دوسرے گاؤں میں ہے، اور بود و باش دوسرے گاؤں میں تو ایسی صورت میں وہ مسجد کا ڈالا یعنی مسجد کی ماہانہ رقم کس گاؤں میں دے گا ؟ پہلے گاؤں میں جہاں آبائی وطن تھا یا دوسرے گاؤں میں جہاں ابھی مقیم ہے جب کہ زمین جائے داد دونوں جگہ ہے؟

جواب

مسجد میں ماہانہ رقم دینا بہت بڑی نیکی کا کام ہے، لیکن یہ ایک تبرع کا کام ہے، لازم نہیں ہے، اس لیے مذکورہ شخص کی مرضی ہے جہاں اس کا دل چاہے یا جہاں وہ زیادہ ضرورت محسوس کرے اس مسجد میں وہ ماہانہ رقم دیا کرے، البتہ جس گاؤں میں اس کی رہائش ہے   چوں کہ اسی گاؤں کی مسجد میں وہ نماز پڑھنے کے لیے جاتا ہوگا، اس لیے اس گاؤں کی مسجد میں ماہانہ رقم دینا زیادہ بہتر ہے، اِلا یہ کہ آبائی گاؤں کی مسجد میں زیادہ ضرورت ہو، اگر دونوں جگہ آدھی آدھی رقم دے تو یہ بھی درست ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200140
تاریخ18-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں