بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالغ کے جنازے کی دعا یاد نہ ہو تو کیا پڑھے؟

سوال

 اگر کسی بندے نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور وہ جناز ہ بالغ کا تھا، اس کو بالغ کی دعا نہیں آتی تو وہ اب کیا کرے ؟

جواب

واضح رہے کہ نمازِ جنازہ کے ارکان چار تکبیرات کہنا  اور قیام کرنا ہے، جب کہ ثناء، درود شریف اور دعا پڑھنا مسنون ہے۔ جیساکہ البحر الرائق میں ہے:

’’و أما ركنها: فالتكبيرات و القيام، و أما سننها: فالتحميد و الثناء و الدعاء فيها‘‘. (٢/ ١٨٠، ط: سعيد)

صورتِ مسئولہ میں اگر  بالغ کی دعا یاد نہ ہو تو  "اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ" پڑھ لے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

’’هذا إذا كان يحسن ذلك، فإن كان لا يحسن يأتي بأي دعاء شاء‘‘. (الباب الحادي و العشرون في الجنائز، الفصل الخامس في الصلاة علي الميت، ١/ ١٦٤، ط: رشيدية)

البحر الرائق میں ہے:

’’و من لا يحسن الدعاء يقول: ’’اللهم اغفر للمؤمنيين و المؤمنات‘‘. (كتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته، ٢/ ١٨٣، ط: سعيد)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200097
تاریخ15-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں