بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا کاروبار کرنا

سوال

اکثر لوگ چمن بارڈر پر نان کسٹم پیڈ(حکومت کا ٹیکس ادا کیے بغیر) گاڑیاں خریدتے ہیں اور سوات، بونیر اور وہ علاقے جہاں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چلتی ہیں، وہاں جا کر ان کو فروخت کر دیتے ہیں، چمن بارڈر سے ان علاقوں تک پہنچنے میں پولیس کا ناکہ آجائے تو ان کو پیسے دے کر جان چھڑاتے ہیں ، اکثر لوگ یہ کاروبار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ  جائز  ہے؛ کیوں کہ حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس ظالمانہ ہے،  کیوں کہ حکومت آپ سے چیز کی اصل قیمت سے زائد ٹیکس وصول کرتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ مذکورہ کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ کاروبار فی نفسہ جائز اور اس سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہے،  تاہم رشوت دینا اور جھوٹ بولنا جائز نہیں،  نیز خود کو خطرے یا بدنامی کے موقع میں ڈالنا بھی شرعاً درست نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200084
تاریخ15-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں