بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سوالیہ انداز میں ’’میری بیوی کو طلاق ہوگئی ہے‘‘ کہنے کا حکم اور وہم کا علاج

سوال

ایک شخص کو وہم کی بیماری ہو ، بار ایک خیال ذہن میں آتا ہو، وہ کسی کتاب میں طلاق کا لفظ پڑھ لے اور اس کے ذہن میں بار بار آئے طلاق ہو گئی ہے، وہ پریشانی میں کہے میری بیوی کو طلاق ہوگئی ہے؟  یہ سوالیہ جملہ تھا یہ اس نے سوالیہ انداز میں کہا تھا، اس جملے سے نقصان ہو گا، اگرچہ طلاق کی نیت نہ تھی جب کہ یہ پریشانی کے عالم میں کہا تھا ان وساوس کا حل کیا ہے؟

جواب

اگر یہ جملہ (’’ میری بیوی کو طلاق ہوگئی ہے‘‘) سوالیہ انداز میں کہا تھا تو اس جملہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، اس طرح کے وہم اور وساوس کا علاج یہ ہے کہ ان کی طرف بالکل بھی دھیان نہ دیا جائے، جتنا اس کے بارے میں سوچیں گے یہ وہم  اور وسوسے اور زیادہ بڑھیں گے، اس کے ساتھ ’’اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ اور ’’اللہم انی اعوذ بک من ھمزات الشیاطین و اعوذ بک رب ان یحضرون‘‘ کثرت سے پڑھا کریں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200066
تاریخ14-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں