بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

’’منحہ‘‘ اور ’’مناھل‘‘ کا معنی اور یہ نام رکھنے کا حکم

سوال

’’منحہ‘‘ اور ’’مناھل‘‘ نام کا معنی کیا ہے؟ کیا میں  اپنی بیٹی کا یہ نام  رکھ سکتا ہوں؟

جواب

 ’’منحہ‘‘  اور ’’مناھل‘‘ دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں۔  ’’منحہ‘‘   کا معنی ہے تحفہ، عطیہ، گفٹ۔ اور ’’مناھل‘‘ ’’منھل‘‘ کی جمع ہے ،اس  کا معنی ہے:  پانی کا گھاٹ، سیرابی حاصل کرنے کا مقام۔

آپ اپنی بیٹی کا نام ’’منحہ‘‘ یا ’’مناھل‘‘ رکھ سکتے ہیں، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ بیٹی کا نام صحابیات مطہرات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی نام پر رکھا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200048
تاریخ12-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں