بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ہندو کے کھانا کھانے کا حکم

سوال

ہندو کے ہاں روٹی کا کھانا  کیسا ہے؟

جواب

اگر ہندو کے برتن پاک ہوں اور یقین ہو کہ وہ کوئی غلط چیز استعمال نہیں کرتا تو اس کی روٹی کھانا  جائز ہے، اگر علم نہ ہو تو اس میں کراہت ہے، لیکن کھالیا تو وہ حرام نہیں ہوگا، اور اگر علم ہو کہ  وہ کھانے پینے کی چیزوں میں نجس چیز ملاتا ہے یا اس کے برتن ناپاک ہیں تو  ایسی صورت میں کھانا جائز نہیں ہے۔

الفتاوى الهندية (5/ 347):
’’قال محمد - رحمه الله تعالى -: ويكره الأكل والشرب في أواني المشركين قبل الغسل، ومع هذا لو أكل أو شرب فيها قبل الغسل جاز، ولا يكون آكلاً ولا شارباً حراماً، وهذا إذا لم يعلم بنجاسة الأواني، فأما إذا علم فإنه لا يجوز أن يشرب ويأكل منها قبل الغسل، ولو شرب أو أكل كان شارباً وآكلاً حراماً‘‘
۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144003200042
تاریخ12-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں