بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دفتری اوقات میں کسی اور کام کے لیے جانا

سوال

میں ایک سرکاری ملازم ہوں۔ دفتر کا ڈیوٹی ٹائم نو بجے سے شام پانچ بجے تک ہے۔ ایک دینی مدرسے میں تین بجے کلاسز ہوتی ہیں ۔ کیا مجھے وہاں جانے کی اجازت ہے جب کہ میں نے ایک سال تو بہت مشکل سے پورا کیا۔ روزانہ کی بنیاد پر دفتر سے جانا بھی مشکل ہے۔ جب کہ کوئی اور مدرسہ قریب ہے ہی نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں دفتری اوقات میں سرکار سے اجازت کے بغیر نماز یا سرکاری کام کے علاوہ کسی اور کام کے لیے جانا درست نہیں، لہذا دفتری اوقات کے علاوہ جہاں بالغان کے لیے دینی تعلیم حاصل کرنے کا انتظام ہو، وہاں داخلہ لے لیں یا  سرکار کے مختار ذمہ داران  سے مقررہ وقت کی اجازت لے لیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200038
تاریخ12-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں