بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

والد، دو بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیوں میں میراث کی تقسیم

سوال

ایک آدمی فوت ہوگیا  2014 میں، اس کی میراث میں 272 (ghunte) ایک پلاٹ اور 126 (ghunte) دوسری جگہ پلاٹ ہے، ورثاء میں  والد،اور دو بیویاں ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، والد 2018 میں فوت ہوگیا ہے، تقسیم کس طرح ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  مرحوم  کے ترکہ میں سے اس کے حقوقِ متقدمہ  یعنی تجہیز وتکفین کے اخراجات نکالنے کے بعد، مرحوم کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو تو  اسے مرحوم کے کل ترکہ میں سے ادا کرنے بعد، مرحوم نے  اگر کوئی  جائز   وصیت کی ہو تو   اسے ایک  تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد، باقی  کل منقولہ وغیرمنقولہ  ترکہ کو240 حصوں میں تقسیم کرکے 15، 15 حصے مرحوم کی ہر ایک بیوہ کو ، 40 حصے مرحوم کے والد کو، 34، 34 حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو  اور 17، 17 حصے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ملیں گے، یعنی مثلا 100 روپے میں سے 6/25 روپے مرحوم کی ہر ایک بیوہ کو ، 16/66 روپے مرحوم کے والد کو ، 14/16 روپے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو اور 7/08 روپے ہر ایک بیٹی کو ملیں گے۔

نیز مرحوم کے والد جن کا مرحوم کے انتقال کے بعد 2018 میں انتقال ہوگیا ہے ان کو جو مرحوم بیٹے کی میراث سے حصہ ملا ہے وہ ان کے شرعی ورثاء میں شرعی حصص کے تناسب سے تقسیم ہوگا۔

نوٹ: یہ تقسیم  اس صورت میں ہے کہ مرحوم کی والدہ کا انتقال مرحوم کی حیات ہی میں ہوگیا ہو۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144003200033
تاریخ11-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں