بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز چھوڑنے کی وجہ سے تجدید نکاح کا حکم

سوال

جھوٹ بولنے اور نماز چھوڑنے پر ایسی احادیث ہیں جن کے ظاہر سے جھوٹ بولنے اور نماز چھوڑنے والا کافر ہو جانا معلوم ہوا ہے، کیا اس طرح نکاح بھی دوبارہ کروانا پڑتا ہے؟  کیوں کہ کفر سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

اگر کوئی آدمی نماز کو اس اعتقاد کے ساتھ ترک کرتا ہے کہ نماز فرض ہی نہیں تو ایسا آدمی کافر ہے اور توبہ کی صورت میں تجدیدِ نکاح بھی ضروری ہو گا اور اگر کوئی شخص ایسا اعتقاد تو نہیں رکھتا، بلکہ محض سستی کی وجہ سے نماز ترک کر دیتا ہے تو ایسا آدمی نماز چھوڑنے کی وجہ سے کافر نہ ہو گا، البتہ فاسق ہو گا، لہذا جب کافر نہ ہو گا تو نکاح بھی نہیں ٹوٹا؛ اس لیے اس کی تجدید کی ضرورت بھی نہیں ہوگی۔ 

اور جن احادیث میں نماز کے ترک پر کفر کا حکم لگایا گیا ہے، اس سے مراد بھی وہی صورت ہے جب اس اعتقاد سے چھوڑے کہ نماز چھوڑنا جائز ہے۔ اور اس صورت میں چھوڑنے والا بہرحال کافر ہو جاتا ہے یا اُن احادیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا یہ فعل کفار کے فعل سے مشابہ ہے۔ 

شرح النووي على مسلم (2/ 71):
’’وتأولوا قوله صلى الله عليه وسلم: ’’بين العبد وبين الكفر ترك الصلاة‘‘ على معنى أنه يستحق بترك الصلاة عقوبة الكافر وهي القتل، أو أنه محمول على المستحل، أو على أنه قد يؤول به إلى الكفر، أو أن فعله فعل الكفار، والله أعلم‘‘. 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200888
تاریخ07-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں