بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میری نافرمانی کی توتمہیں طلاق

سوال

کل میرے شوہر نےمجھےغصےمیں کہا کہ ’’اگر تم نے میری نافرمانی کی تو میری طرف سے تم کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے’’،  تو کیا میری طلاق واقع ہو گئی؟ اور  اگر نہیں  ہوئی  تو کس طرح کی شرائط پر واقع ہو  جائے  گی؟ اور تھوڑی دیر بعد جب غصہ ختم ہوا  تو کہا میں نے اپنی شرط واپس لی. تو کیا طلاق کی شرط واپس ہو گئی؟ یا اب یہ ساری عمر کے لیے قائم ہو گئی؟

جواب

جب آپ کے شوہر نے آپ کو غصہ میں کہا کہ "اگر تم نے میری نافرمانی کی تو میری طرف سے تم کو طلاق ہے طلاق ہے طلاق ہے" تو ان الفاظ سے آپ کی طلاق نا فرمانی کی شرط کے ساتھ  معلق ہو گئی، اب اگر آپ نے اپنے شوہر کی نافرمانی کی (یعنی ایسا کوئی کام کیا جس کو نافرمانی کہا جاتا ہو) تو آپ پر تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اس کے بعد شوہر کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ اپنی شرط واپس لے لے، اس کے شرط واپس لینے سے شرط ختم نہیں ہو گی۔

البتہ اگر تین طلاق سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کے شوہر آپ کو ایک طلاق دے دیں، پھر عدت گزرنے کے بعد نافرمانی کر لی جائے، اس طرح کر لینے سے شرط بھی پائی جائے گی اور تین طلاق بھی واقع نہ ہو گی، اس کے بعد دوبارہ نکاح کر لیں، آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا حق حاصل رہے گا اور دوبارہ نافرمانی کی صورت میں کوئی طلاق واقع نہ ہو گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200881
تاریخ06-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں