بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بوجہ عذر عورت کا تشہد میں بائیں طرف پاؤں نکالنا

سوال

نماز میں اگر عورت دائیں کے بجائے بائیں طرف پاؤں نکال کر بیٹھے تو کیا یہ غلط ہے؟ اس سے نماز ہو جائے گی؟ کیوں کہ ان سے سیدھی طرف بیٹھا نہیں جاتا ، سجدہ بھی نہیں کرسکتیں۔

جواب

عورت کے لیے مسنون تو یہی ہے کہ دائیں طرف پاؤں نکالے، لیکن اگر عذر کی وجہ سے وہ اس طرح کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، نماز ہو جائے گی۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 269):

’’و" يسن "تورك المرأة" بأن تجلس على أليتها وتضع الفخذ على الفخذ وتخرج رجلها من تحت وركها اليمنى؛ لأنه أستر لها‘‘.   فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200877
تاریخ05-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں