دکان کرائے پر کسی آغاخانی کو دینا
سوال
کوئی بندہ اپنی دکان کرائے پر کسی آغاخانی کو دے سکتا ہے؟
جواب
آغاخانی فرقہ کے عقائد مسلمانوں والے نہیں؛ اس لیے ان سے زیادہ میل ملاپ اور دوستی رکھنا جائز نہیں، البتہ ان سے معاملات جائز ہیں؛ لہذا ان کو کرایہ پر ددکان دینا جائز ہے، بشرطیکہ دلی تعلق نہ ہو۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144001200833
تاریخ02-11-2018

