بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چہرے کے بال، کیل مہاسے وغیرہ ہٹانے کے علاج کا حکم

سوال

میں جلد کے علاج کے لیے ایک کلینک کھولنا چاہتا ہوں، جس میں چہرے کے بال , کیل مہاسے اور داغ دھبے ہٹاناشامل ہے، یہ مرد اور عورت دونوں کے لیے ہوگا، کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟ 

جواب

مرد اور عورت دونوں کے لیے  چہرے کے کیل مہاسے اور داغ دھبوں کی دوری کے لیے علاج کروانا جائز ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ مرد مردوں کا اور عورت عورتوں کا علاج کرے۔

چہرے کے بال صاف کرانے میں تفصیل ہے:

مرد کے لیے  ڈاڑھی کے بال ہٹانا ناجائز ہے، بھنویں بنانا ناجائز ہے، اس کے علاوہ گال یا ماتھے پر اگر بہت زیادہ بال ہیں تو ا ن زائد بالوں کو ہٹانے کے لیے مرد سے علاج کرواسکتا ہے، بشرطیکہ عورتوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔

عورتوں کے لیے بطورِ فیشن باریک بھنویں بنانا ناجائز ہے، اس کے علاوہ چہرے کے زائد بال ہٹانا جائز ہے، بشرطیکہ کسی عورت سے علاج کرایا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200826
تاریخ02-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں