بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں خیالات کا آنا

سوال

 میں نماز باقاعدگی سے نہیں پڑھتا۔ کئی بار سچی نیت سے اعادہ کیا ہے مگر کوئی ایسی سستی یا نحوست آڑے آ جاتی ہے کہ جمعہ کی نماز بھی خشوع سے نہیں پڑھی جاتی۔ شیطان کے ان شدید حملوں سے کیسے بچا جائے؟

جواب

گناہ ترک کرنے اور نیکیوں پر استقامت کے لیے سب سے بنیادی چیز انسان کا عزم ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں آپ سچے دل سے جملہ گناہوں سے توبہ کریں اور کثرت سے استغفار کیا کریں، پختہ عزم کے ساتھ آئندہ نمازوں کی پابندی کا ارادہ کریں۔ اور اللہ تعالیٰ سے مدد اور استقامت طلب کرتے رہیں، نیز  "لاحول ولا قوة إلا بالله العلي العظیم" پڑھتے رہا کریں۔اور کسی مستند عالمِ دین سے تعلق رکھیں۔

اذان کے ساتھ ہی نماز کی تیاری کرنے اور مسجد جانے کا اہتمام کریں. اور نماز اگر خیالات آئیں تو ان پر دھیان دینے کے بجائے نماز کے افعال پر توجہ رکھنے کی کوشش کیا کریں۔  اس خیال سے کہ نماز میں دل نہیں لگتا نماز ترک کرنا ہرگز جائز نہیں۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200825
تاریخ02-11-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں