بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فوٹو گرافی کا حکم

سوال

فوٹو گرافر کا کام جائز ہے یا ناجائز ہے؟ مزید یہ کہ میں اپنی دو کان فوٹو گرافر کو کرائے پر دوں تو وہ آمدنی جائز ہے یا نا جائز ہے؟

جواب

جاندار کی فوٹو گرافی کرنا شرعاً حرام ہے، احادیث میں سخت وعیدات آئی ہیں جس کی وجہ سے فوٹوگرافی کو اپنا ذریعہ معاش بنانا بھی جائز نہیں اور نہ ہی ایسی آمدنی حلال ہے، لہذا مسئولہ صورت میں فوٹوگرافر کو  دوکان کرایہ پر دینا گناہ و معصیت کے کام میں معاونت کرنے کے زمرے میں آتا ہے جو بنصِ قرآنی : ﴿ وَلاَ تَعَاوَنُوا عَلي الإثْمِ وَ الْعُدْوَانِ﴾ (المائدة:2) ممنوع ہے. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200786
تاریخ30-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں