بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتدی سے تکبیراتِ انتقال کا چھوٹ جانا

سوال

کیا مقتدی کے لیے تکبیراتِ انتقال کا زبان سے ادا کرنا ضروری ہے یا اس کے بغیر نماز ہوجائے گی؟

جواب

تکبیراتِ انتقال : یعنی ایک رُکن سے دوسرے رُکن کی طرف منتقل ہونے کی تکبیرات، جس طرح امام کے لیے بہ آوازِ بلند کہنا سنت ہے، اسی طرح مقتدیوں کے لیے زبان سے آہستہ کہنا سنت ہے، لہذا مقتدیوں کو بھی امام کی تکبیر  کے بعد تکبیراتِ انتقال آہستہ کہہ کر دوسرے رکن میں منتقل ہوناچاہیے، اس لیے جان بوجھ کر ان تکبیرات کا ترک کرنادرست نہیں۔ البتہ اگر کوئی مقتدی کسی وجہ سے نہ کہہ سکا، تو اس کی نماز صحیح ہوجائے گی۔فتاوی شامی میں ہے:

"(وجهر الإمام بالتكبير) بقدر حاجته للإعلام بالدخول والانتقال، وكذا بالتسميع والسلام، وأما المؤتم والمنفرد فيسمع نفسه". (1/475)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200766
تاریخ29-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں