بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اذان کے بعد مخصوص دعا کا ثبوت

سوال

اذان کے وقت اس دعا "مرحباً بالقائلين عدلًا، مرحباً بالصلاة وأهلا" کاپڑھنا حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟نیز درست ہے یا نہیں ؟حوالہ درکار ہے۔

جواب

مذکورہ الفاظ معنی کے اعتبار سے درست ہیں، اس لیے کہ ہرمسلمان کا دل نما زکے وقت کے آجانے پر خوش ہوتاہے،اوراذان کے تمام الفاظ بھی برحق اور سچ اور عظمت والے ہیں۔ نیز "المعجم الکبیرللطبرانی" میں  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مندرجہ بالا الفاظ کا ادا کرنا منقول ہے:

"عن قتادة ، أن عثمان بن عفان رضي الله عنه ، كان إذا جاءه من يؤذنه بالصلاة ، قال : مرحباً بالقائلين عدلاً، وبالصلاة مرحباً وأهلا". (1/55)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200753
تاریخ28-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں