بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچے کا عمرہ

سوال

ڈیڑھ، دو سال کا بچہ عمرہ کرسکتاہے یا نہیں؟ اگر عمرہ کر سکتا ہے تو احرام باندھنا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اس بچے پر کون سے احکام ہوں گے؟ اور اس کا طریقہ کیا ہوگا؟

جواب

نابالغ بچہ چوں کہ احکامِ شرعیہ کا مکلف نہیں ہے اس لیے اسے احرام پہنانا اور احرام کی پابندیوں کی رعایت رکھنا ضروری نہیں،  اسے بنا احرام کے بھی لے جایا جاسکتا ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے: (2/ 340):
’’ولما كان الصبي غير مخاطب كان إحرامه غير لازم، ولذا لو أحصر وتحلل لا دم عليه ولا جزاء ولا قضاء‘‘.
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200750
تاریخ28-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں