بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا خطبہ کے دوران گھر میں ظہر کی نماز پڑھنا

سوال

وہ ممالک جہاں جمعہ کا خطبہ لاؤڈسپیکر میں ہوتا ہے، تو اگر گھر تک اس خطبے کی آواز پہنچ رہی ہو  تو کیا عورتیں اس وقت نماز پڑھیں  یا خطبہ ختم ہونے کا انتظار کریں؟  اگر خطبے کے دوران کوئی خاتون نماز پڑھے گی تو کیا مکروہ ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ خطبہ جمعہ کے دوران خاموش رہنے کا حکم اس آدمی کے لیے ہے جو جمعہ کے لیے حاضر ہوا ہو، اگر خواتین اپنے گھروں میں ہوں اور خطبہ کی آواز لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ گھر تک پہنچ رہی ہو تو اس خطبہ کے لیےعورتوں کا گھروں میں  خاموش ہو جانا ضروری نہیں۔لہذا عورتوں کے لیے خطبہ کے دوران گھروں میں ظہر کی نماز  پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔ البتہ عورت خاموشی سے خطبہ سنے تو  یہ اولیٰ ہے۔  اور اگر خطبہ کی آواز کی وجہ سے اپنی نماز میں خلل آنے کا اندیشہ ہو تو نماز کو مؤخرکر دینا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200730
تاریخ27-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں