بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 جُمادى الأولى 1448ھ 29 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپیوٹر کے ذریعے دوسروں کے موبائل یا میموری کارڈ وغیرہ میں فلمیں اور گانے وغیرہ ڈالنے اور اس کی اجرت لینے کا حکم

سوال

کمپیوٹر کے ذریعے دوسروں کے موبائل یا میموری کارڈ وغیرہ میں فلمیں اور گانے وغیرہ ڈال کر ان سے پیسے لینا کیسا ہے؟ اور کیا گانے اور فلمیں ڈال کر دینے کے پیسے دکان کے کرائے میں دینا جائز ہے؟

جواب

کمپیوٹر کے ذریعے سے لوگوں کو موبائل یا میموری کارڈ وغیرہ میں فلمیں اور گانے وغیرہ ڈال کر دینا سخت گناہ کا کام ہے، وہ لوگ جب تک ان فلموں اور گانوں کو دیکھتے اور سنتے رہیں گے تو اس ڈالنے والے کو برابر گناہ ملتا رہے گا ؛ اس لیے اس کام سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، چوں کہ یہ ایک گناہ کا کام ہے اس لیے اس کام کے بدلہ پیسے وصول کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اور ان پیسوں سے نہ تو دکان کا کرایہ ادا کرنا جائز ہے اور نہ ہی کسی بھی قسم کا استفادہ کرنا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200729
تاریخ27-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں