بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بالوں پر رنگ لگانے سے وضو کا حکم

سوال

 آج کل بالوں کے لیے جو کلر ہوتے ہیں ان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ان میں پانی داخل ہوتا ہے کہ نہیں؟  یعنی ان کو استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

عام طور پر بالوں کا رنگ تبدیل کرنے کے لیے جو مہندی یا خضاب آتے ہیں وہ پانی کے جلد تک پہنچنے سے مانع نہیں ہوتے یعنی وہ لگا لینے سے پانی رکتا نہیں، بلکہ جلد تک پہنچ جاتا ہے، تو اس قسم کی مہندی وغیرہ کو استعمال کرنا جائز ہو گا، اسی طرح اگر کوئی کلر ایسا ہے جس کی بالوں پر الگ سے کوئی تہہ نہیں جمتی، بلکہ وہ صرف بالوں کا رنگ تبدیل کرتا ہو تو وہ لگانا جائز ہو گا، لیکن اگر کوئی کلر ایسا ہو جس کی تہہ بالوں پر جم جاتی ہو جو کہ مشاہدہ سے معلوم ہو سکتا ہے تو ایسے کلر کے لگانے سے چوں کہ وضو نہیں ہو گا؛ اس لیے ایسا کلر لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

واضح رہے کہ بالوں پر رنگ لگانے کی اجازت کالےرنگ کے علاوہ ہے، کالا رنگ لگانا شرعاً منع ہے۔ لمافي المسلم (۱۹۹/۲):

’’عن جابر بن عبداﷲ قال: أتي بأبي قحافة یوم فتح مکة ورأسه ولحیته کالثغامة بیاضاً، فقال رسول اﷲ ﷺ: غیروا هذا بشيء، واجتنبوا السواد‘‘. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200703
تاریخ25-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں