بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قریبی نالے کی وجہ سے پانی میں بو آجائے تو اس کے استعمال کا حکم

سوال

 اگر کسی کے گھر میں واٹر بورڈ سے ایسا پانی آتا ہوجس میں بو محسوس ہو تو کیا کرے؟ گھر کے قریب نالہ ہے، غالب خیال یہ ہے کہ شاید نالے کی وجہ سے بو آتی ہو؟ اور اس پانی سے پڑھی گئیں نمازوں کا کیا حکم ہے؟ نیز یہ بھی یاد نہیں کب سے ایسا ہے؟  

جواب

اگر پانی میں نجاست ملنے کا یقین نہیں ہے، صرف ہلکی بو ہے جو نالہ کے قریب ہونے کی وجہ سے ہے تو اس وجہ سے پانی کو ناپاک نہیں کہاجائے گا، اس پانی سے وضو کرکے جو نمازیں اداکی گئی ہیں وہ ادا ہوگئی ہیں، اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200692
تاریخ24-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں