بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تہجد کے لیے زبردستی بیدار کرنا

سوال

کیا کسی کی نیند خراب کرنا جائز ہے حتیٰ کہ  فجر کی نماز کا وقت بھی نہ ہو  اور وقتِ تہجد دوسرے کو بھی ساتھ جگا کے بٹھا دیا جائے، کیا یہ جائز ہے؟ قرآن اور حدیث کی روشنی میں راہ نمائی  فرمائیں!

بعض علماء سے سنا ہے  کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غلام کی نیند بھی خراب مت کرو کیا پتا وہ اپنی آزادی کا خواب دیکھ رہاہو. 

جواب

تہجد نفل نمازہے اور نوافل کے لیے کسی پر زور زبردستی درست نہیں ہے؛ لہذا تہجد کے لیے کسی ایسے شخص کو نہیں اٹھا نا چاہیے جو اس  پر رضامند نہ ہو۔

غلام کو نہ جگانے کے حوالے سے جو روایت آپ نے ذکر کی، تلاش کے باوجود نہیں مل سکی، اس لیے حدیث کے طور پر اس کی روایت سے اجتناب کیا جائے. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144001200679
تاریخ24-10-2018

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں